ریگی دہشت گرد سرجھکا کر بیٹھا تھا اور شہید پیغان کی والدہ نے اس سے مخاطب ہو کر کہا:
اے خدا کی طرف سے نفرین شدہ مخلوق! سر اٹھا کر کہو کہ تم نے بے گناہوں کا خون کیوں بہایا ہے؟
کیا تم کو معلوم نہ تھا کہ اس رات تو نے جن عزیزوں کا خون بہایا ان کی مائیں دسترخوان بچھا کر اپنے بچوں کا انتظار کررہی تھیں؟ تم نے ان ماؤں کو کیوں منتظر اور چشم براہ چھوڑ دیا؟
روز جمعہ 18 جون 2010، ہمیں شہیدوں کے اہل خاندان کے ہمراہ ریگی سے ملنے کی اجازت ملی۔
میں نے اس کو شرمندہ پایا؛ آنکھیں جھکائے بیٹھا تھا اور ذلت و حقارت اس کے سراپے سے عیاں تھی۔ سورہ معارج کی آیت 44 یاد آئی جہاں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ــ ان کی آنکھیں (ہیبت اور ندامت سے) جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذِلت چھا رہی ہوگی۔
مجھے اللہ تعالی نے اپنے ہزاروں معجزات میں سے ایک معجزہ ایک بار پھر دکھا دیا تھا اور میں اللہ کا شکر ادا کررہا تھا۔ الحمد للہ۔ کل صدام، آج عبدالمالک اور آئندہ کل دنیا کے تمام بڑے چھوٹے مستکبرین، خدا کے نزدیک ان کے درمیان کیا فرق ہوسکتا ہے۔ اور ہاں اللہ کے وعدے کتنی جلدی عملی جامہ پہنتے ہیں۔
فلک کی گردش بھی عدل کے منہج پر ہے
خوش رہو کہ ظالم منزل مقصود تک نہ پہنچے گا
ملاقات میں شریک افراد میں سے ایک نے عبدالمالک سے کہا: دیکھو! ان لوگوں کو پہچانتے ہو؟
عبدالمالک نظریں دوڑاتا ہے تو مجھے پہچان لیتا ہے اور جن کو وہ نہیں پہچانتا میں ان کا تعارف کراتا ہوں۔ مجھے اس لئے پہچانتا ہے کہ میں کئی مہینوں تک اس کا یرغمالی رہا ہوں۔
عبدالمالک اپنی نظریں ایک بار پھر شرمندگی سے جھکالیتا ہے اور اپنی مأیوس اور ٹوٹی ہوئی نگاہ زمین میں گاڑھ لیتا ہے۔
شہید کی ماّں لیکن خاموش نہیں رہتیں اور نہایت مضبوط انداز میں اس کو عتاب کا نشانہ بناتی ہیں اور کہتی ہیں:
اے خدا کی طرف سے نفرین شدہ مخلوق! سر اٹھا کر کہو کہ تم نے بے گناہوں کا خون کیوں بہایا ہے؟
کیا تم کو معلوم نہ تھا کہ اس رات تو نے جن عزیزوں کا خون بہایا ان کی مائیں دسترخوان بچھا کر اپنے بچوں کا انتظار کررہی تھیں؟ تم نے ان ماؤں کو کیوں منتظر اور چشم براہ چھوڑ دیا؟
ہم عبدالمالک سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے صوبے (سیستان و بلوچستان) کے لوگوں کو یقین ہے کہ وطن کی حرمت ماں کی حرمت جیسی ہے۔ تم کس طرح علیحدگی پسندی کی دعویدار ہوئی اور تم نے بی گناہوں کا خون کیوں بہایا اور لوگوں سے کیوں کہا کہ "یہ صوبہ چھور کر چلی جاؤ"؟ کیا تمہارا یہ اقدام درست تھا؟
چیختا چلاتا قتل، دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان کی ہدایات دیتا بدنام زمانه دہشت گرد عبدالمالک ریگی بڑے دھیمے انداز میں بول اٹھتا ہے: "ہم نے پاکستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور تعصبات کا شکار ہوگئے تھے"، اور پھر خاموش ہوجاتا ہے اور اس کی گردن گویا لٹک جاتی ہے گویا اس کا سر اس کے بدن پر بھاری ہورہا ہے اور بدن سر کا بوجھ مزید برداشت کرنے سے عاجز ہوگیا ہے۔
ہم کہتے ہیں: ابتداء میں تمہارا دعوی تھا کہ امریکہ کے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اب یہ تعلق طشت از بام ہوگیا ہے اور واضح ہوگیا ہے کہ تم نے دشمنان اسلام کے ساتھ ساز باز کرلی ہے؛ تم خدا، اسلام، نبی رحمت (ص) اور سنت نبی (ص) کے نام پر اتنے بڑے جرائم کے مرتکب کیوں ہوئے کیا یہ اسلام کے ساتھ ظلم اور غداری نہیں ہے؟ کیا تمہارے اعمال شیعہ اور سنی عوام پر ظلم کا مصداق نہیں ہیں؟
عبدالمالک کہتا ہے: "درست ہے" اور قبول کرتا ہے کہ اس نے خدا اور پیغمبر خدا (ص) سے غداری اور اسلام اور مقدس اسلامی جمہوری نظام اور شیعہ اور سنی عوام پر ظلم کیا ہے اور نتیجہ بھی وہی جو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ: "إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمينَ" بے شک خداوند متعال ستمگروں کو دوست نہیں رکھتا (سورہ شوری، آیہ40)۔
ہم نے قرآنی آیت کا حوالہ دی کر کہا : "إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصادِ" بے شک آپ کا رب ہر وقت (سرکشوں اور نافرمانوں کی) خوب تاک میں ہے (سورہ فجر، آیہ14) کیونکہ مظلوموں کی آہ عرش سے اوپر صعود کرتی ہے اور ملکوت میں سنی جاتی ہے اور اسی بنا پر حدیث میں ہے کہ "اس شخص پر ظلم کرنے سے ڈرو جس کی خدا کے سوا کوئی پناہ نہیں ہے"۔ اور خداوند متعال اگر ایک طرف سے سریع الحساب ہے دوسری طرف سے سریع العقاب بھی ہے اور ظالم کو اس کے ظلم کا مزہ بہت زیادہ سرعت کے ساتھ چکھادیتا ہے۔
شہید جابر قویدل کی عمر صرف 15 سال تھی؛ وہ یتیم تھا اور اس کے والدین دنیا سے اٹھ چکے تھے تم نے اس کو کیوں شہید کیا؟ اور ہماری اس یادآوری کے پیچھے یہ آیت کریمہ تھی کہ "فَأَمَّا الْيَتيمَ فَلا تَقْهَرْ"؛ لہذا یتیم پر سختی نہ کرنا اور اس کو آزار نہ پہنچانا (سورہ ضحی، آیہ9)
نے کہا: اے عبدالمالک! اب بھی اگر تم واقعی نادم ہوگئے ہو اور اگر واقعی اس نتیجے پر پہنچے ہو کہ تیرے کام سارے غلط تھے اور اگر واقعی تم نے اپنی گرفتاری کی کیفیت دیکھ کر مقدس اسلامی جمہوری نظام کی حقانیت، قوت و عزت اور عظمت کا یقین کرہی لیا ہے تو تمہارے پاس جتنی بھی معلومات ہیں وہ نظام کے حوالے کرنا اور کوئی بھی ناگفتہ بات باقی نہ چھوڑنا۔
ہم
دھیمے سے آواز آتی ہے اور عبدالمالک کہتا ہے: جو کچھ بھی تھا میں کہہ گیا ہوں۔
ہم یادآوری کراتے ہیں کہ ہم اپنی جان نثار کرنے کے لئے تیار ہیں ایک بار نہیں ہزار بار۔
میں کہتا ہوں: عبدالمالک! تمہیں یاد ہے جب میں تمہارے ہاتھوں میں اسیر تھا اور میں نے یہی بات دوسرے لب و لہجے میں تمہیں سنائی تھی؟ تمہیں یاد ہے جب تمہارے دوستوں نے مجھے موت سے ڈرایا اور میں نے کہا: "مرغابی کو پانی سے ڈراتے ہو؟"، یاد ہے کہ تم نے اس کے بعد مجھے مرغابی کہنا شروع کیا تھا؟ تمہیں شہید کرنل کاوہ بھی یاد ہیں جس سے تم نے پوچھا: اگر میں کسی کو مارنا چاہوں اور تم سے رائے لینا چاہوں تو تم کس کا نام لوگے؟ اور انھوں نے کہا تھا: میں اپنا نام لوں گا! یاد ہے تمہیں؟